طلباءجامعہ بنوریہ

جامعہ بنوریہ جس کی ابتداءگنتی کے چند طلباءسے ہوئی تھی اس میں آج الحمداﷲ ہزاروں طلبہ اور طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں دورہ حدیث کے بعد اگر طلباءدیگر تعلیمی مشاغل جاری نہیں رکھنا چاہتے توان کو ایک سال کے لئے تبلیغی جماعت میں بھیجا جاتاہے تاکہ وہ یکسوئی اور محنت کے ساتھ اصلاحی نظام سے واقفیت حاصل کر سکیں الحمداﷲ اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

جامعہ کے مختلف شعبوں میں پاکستان کے علاوہ تقریباً ستائیس ممالک کے طلباءزیر تعلیم ہیں ۔اس کے علاوہ دوسرے ممالک سے بھی بے شمار داخلہ کےلئے درخواستیں موصول ہوتی رہتی ہیں مگر گنجائش نہ ہونے کی بنا پر معذرت کرنی پڑتی ہے۔اس طرح بنات کے شعبہ میں بھی ملکی اور غیر ملکی ممالک کی طالبات جامعہ میں زیر تعلیم ہیں غیر ملکی طلباءاور طالبات کا جن ممالک سے تعلق ہے ، جودرج ذیل ہیں۔

(۱)امریکہ (۲)فرانس (۳)سعودی عرب (۴)برطانیہ (۵)فلپائن (۶)انگلینڈ (۷)بنگلہ دیش (۸)برما (۹)تھائی لینڈ (۰۱)افغانستان (۱۱)سری لنکا (۲۱)تنزانیہ (۳۱)ابوظہبی (۴۱)دبئی (۵۱)انڈونیشیا (۶۱)ساوتھ افریقہ (۷۱)آسڑیلیا (۸۱)کینیڈا (۹۱)ملائشیا

شعبہ بیرونی:

حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب مدظلہ العالی آج سے پندرہ سال قبل رمضان المبارک میں تبلیغی دورے پر امریکہ تشریف لے گئے وہاں تراویح میں قرآن کریم بھی سنایا اور مختلف مقامات پر تبلیغی اجتماعات سے آپ نے خطاب کیا۔سامعین کو وعظ ونصیحت بھی کی۔ لوگوں نے اپنے مسائل بھی سامنے رکھے جن کے مفتی صاحب نے شریعت کی روشنی میں تسلی بخش جواب دیئے۔اور حاضرین کی تشفی کی۔یہ دورہ بہت کامیاب رہا اس لئے وہاں کے لوگوں نے ہر سال رمضان المبارک میں آپ کو بلانا شروع کیا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ان اسفار میں آپ نے وہاں کے لوگوں کا اور ان کی زندگیوں کا بغور جائزہ لیا اور اندازہ کیا کہ یہاں کے مسلمان اپنے دین اور اسلام سے بہت لگاو رکھتے ہیں اور وہ اس کی شدید خواہش اور تمنا رکھتے ہیں کہ ان کا اسلام سے رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہو۔وہ اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہوں انہیں اپنے دین سے زیادہ سے زیادہ واقفیت ہو جس کی روشنی میں وہ اپنی زندگی کا رخ صحیح سمت کی طرف کرسکیں ۔خصوصاًوہ اپنی اولاد کے بارے میں بہت فکر مند اور پریشان ہیں کہ انہیں ان کے مذہب سے آگاہ کرنے والا کوئی نہیں۔قرآن کریم پڑھانے کےلئے صحیح مراکز نہیں۔یورپ کے ماحول میں ان کے بگڑنے کا شدیداندیشہ ہے۔صرف اندیشہ ہی نہیں بلکہ بگاڑ پیدا ہورہاہے۔وہ اس ماحول کے اثرات سے اپنی اولاد کو محفوظ نہیں رکھ سکتے کیونکہ وہاں ان کی دینی تعلیم کا صحیح بندوبست نہیں جب کہ وہاں کے مسلمان اپنے بچوں کو دین سکھانا چاہتے ہیں۔ یہ حالات دیکھ کر حضرت مفتی صاحب فکر مند ہوئے اور مفتی صاحب نے پختہ عزم کرلیا کہ انہیں کتنی ہی محنت کرنی پڑے وہ ان بچوں کےلئے تعلیم کا بندوبست کریں گے۔

پاکستان میں بہت سی جامعات ہیں جن میں بیرون ممالک کے طلباءتعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مگر ان طلباءکو اس سلسلہ میں کافی پریشانی اور دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ یہاں ان کے مزاج،ان کے ماحول اور ان کے حالات کے اعتبار سے رہائش،کھانے پینے کا معقول بندوبست نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے لئے الگ سے کوئی انتظام کیا جاتا ہے لہذا اول تو والدین اپنی اولاد کو بھیجنے کےلئے تیار نہیں ہوتے اگر بھیج بھی دیں تو یہ بچے زیادہ عرصہ نہیں ٹھہرتے اور تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس چلے جاتے ہیں۔

مفتی صاحب کو امریکہ کے مسلمانوں نے دعوت دی مفتی صاحب کے امریکہ میں میزبان جناب اﷲ بخش صاحب نے سب سے پہلے اپنے بچے زاہد کو بھیجا مفتی صاحب نے اسے اپنے گھر میں اپنی اولاد کی طرح رکھا اور اس کے ہر طرح کے آرام ،قیام،طعام کا بہترین انتظام کیا۔اور اسے پڑھانے کےلئے باقاعدہ علیحدہ سے ایک استاد رکھا کچھ عرصہ کے بعد جب امریکہ میں اسکولوں کی تعطیل ہوئی تو دوماہ کیلئے چھ سات بچے جامعہ بنوریہ آئے۔ مفتی صاحب نے ان کیلئے بھی تعلیم کا بندوبست کیا۔انہیں ناظرہ قرآن کریم پڑھایا،دین کی بنیادی باتوں سے انہیں روشناس کرایا جب یہ بچے واپس گئے اور لوگوں نے اس دینی تعلیم کے اچھے اثرات ان میں محسوس کئے اور یہ بھی دیکھا کہ ان کےلئے باقاعدہ علیحدہ سے انتظام کیا گیاہے تو اپنے بچوں کو بھیجنا شروع کیا اس طرح مفتی صاحب باقاعدہ بیرونی طلباءکےلئے الگ سے ایک شعبہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ طلباءکےلئے اساتذہ بھی علیحدہ رکھے گئے جو ان بچوں کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں تعلیم دیتے ہیں۔ان کی رہائش کا بندوبست بھی علیحدہ ہے جس میں ائر کنڈیشنڈ سے مزین صاف ستھرے کمرے ہیں جن میں باقاعدہ پلنگ بچھائے گئے ہیں ہر طرح کی سہولت انہیں فراہم کی گئی ہے۔ان کے مزاج اور ذوق کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے کھانے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔باقاعدہ ہر ہفتہ کے کھانے کا شیڈول اور نظام قائم ہے۔غرضیکہ ایسا ماحول انہیں دیاگیا کہ یہ بچے یہاں اپنے آپ کو اجنبی ماحول میں محسوس نہ کریں۔بلکہ اسے اپناگھر سمجھیں۔الحمدﷲ مفتی صاحب کی شبانہ روز محنت اور ذاتی دلچسپی سے یہ شعبہ توقعات سے زیادہ کامیاب ہوا۔اس وقت اس شعبہ میں کئی ملکوں کے پانچ سو سے زائد طلباءتعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اس شعبہ میں ناظرہ ،حفظ کے بعد درجہ کتب کا شعبہ بھی قائم ہے جو پانچ سالہ نصاب پر مشتمل ہے۔جس میں ہر فن کی بہترین کتب کا انتخاب کیا گیا ہے اور تدریس کے جدید طرز کو ملحوظ رکھتے ہوئے انتہائی محنتی اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔ابتداءمیں کچھ مضامین میں اردو زبان کا سہار لیا جاتاہے ورنہ عربی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے۔

شعبہ بیرونی کے طلباءکےلئے سہولتوں کی تفصیل:

اس شعبہ میں اس وقت درجہ حفظ میں پندرہ کلاسیں ہیں اور درجہ کتب کی چھ کلاسیں ہیں ۔ان میں زیر تعلیم طلباءکی تعداد پانچ سو ہے۔ ۱۔ طلباءکی رہائش کےلئے ائیر کنڈیشن کمرے۔ ۲۔ کلاسوں میں بیٹھنے کیلئے قالین۔ ۳۔ طلباءکے کھانے اور ناشتہ کےلئے (مینو) ۴۔ طلباءکو ائر پورٹ لانے اور لے جانے کی سہولت۔ ۵۔ طلباءکو کپڑوں کی دھلائی کیلئے دھوبی کا انتظام ۔ ۶۔ ٹھنڈے اور گرم پانی کی سہولت۔ ۷۔ طلباءکے علاج وغیرہ کیلئے بہترین ہسپتال کا انتخاب۔ ۸۔ طلباءکیلئے سیروتفریح اور کھیلنے کی سہولت۔ ۹۔ ویزے اور ٹکٹ کے تمام معاملات کی سہولت کیلئے معقول انتظام۔ ۰۱۔ بیرونی طلباءکیلئے الگ مطبخ (کچن)کا انتظام ہے جہاں طلباءکی سہولت اور منشاءکے مطابق کھانا تیار کیا جاتا ہے۔

شعبہ بیرونی درجہ کتب

جامعہ بنوریہ نے شعبہ بیرونی درجہ کتب کےلئے ایسانصاب تعلیم مرتب کیا جس کی مدت چھ سال ہے طلباءکو یہ نصاب عربی میں پڑھایا جاتا ہے آخری سال یعنی دورہ حدیث شریف شعبہ ملکی میں پڑھایا جاتاہے جامعہ بنوریہ سے دورہ حدیث مکمل کرنے والے طلباءبیرون ممالک امریکہ-فرانس-کینیڈا-برطانیہ میں دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور حضرت مہتمم صاحب ہر سال اپنے سالانہ دورہ بیرونی کے موقع پر ان علماءکرام سے ملاقاتیں کرتے ہیں جنہوں نے جامعہ بنوریہ سے دورہ حدیث کی تکمیل کرکے سند فراغت حاصل کی۔