شعبہ حفظ

قرآن کریم اﷲ تعالٰی کی وہ مقدس کتاب ہے جو بنی نوع انسان کے لئے قیامت تک ھدایت کا ذریعہ ہے۔ جس کی راہنمائی میں انسان صراط مستقیم پر گامزن ہو سکتا ہے۔ یہ وہ مشعل ہدایت ہے جس کی روشنی میں انسان کفرو ضلالت کی تاریکیوں سے نکل کر ایمان اور رشدو ہدایت کے نور سے منور ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم کی تعلیم ہی مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی کا سبب بن سکتی ہے اور یہ مسلمان قوم جو قرآن کریم کو چھوڑ کر ذلت و پستی میں جا گری ہے اگر یہ عزت چاہتی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے تو اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ وہ قرآن کریم کو اپنائے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ بے شک اﷲ تعالٰی اس قرآن کریم کے ذریعہ بہت سی قوموں کو رفعت و بلندی عطا کریں گے اور بہت سے لوگوں کو اس کے ذریعہ پستی و خواری میں مبتلا کریں گے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اس قرآن کریم کو مضبوطی سے تھامے رکھا وہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہے کامیابی ان کے قدم چومتی رہی۔ اس قران کریم کے ذریعہ مسلمانوں نے دنیا پر حکومت کی، قرآن کریم نے انہیں اتنا مضبوط بنا دیا تھا کہ ہر باطل کو ان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جانا پڑا۔

لیکن آج قرآن کریم اور اس کی تعلیم سے دوری کی وجہ سے حفظ قرآن کریم کی طرف بھی توجہ بہت کم ہو گئی اور دنیاوی تعلیم پر بہت زیادہ محنت ہونے لگی ہے اس کے لئے نئے نئے انداز سے ترغیبات کا سلسلہ جاری ہے۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ حفظ کے لئے بھی محنت کی جائے۔ اور اس شعبہ کو جدید انداز سے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے تا کہ اس طرف رغبت ہو۔ الحمدﷲ جامعہ بنوریہ اس میں بہت حد تک کامیاب رہا اس کا شعبہ حفظ ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے متعدد حفظ کی کلاسیں ہیں جن میں محنتی اساتذہ محبت و شفقت سے بچوں کو حفظ کی تعلیم دیتے ہیں۔ حفظ کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے نگران مقرر ہیں جو تمام کلاسوں کی مسلسل نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ باقاعدہ ماہانہ جائزہ ہوتا ہے اور ہر تین ماہ بعد امتحان ہوتا ہے جس کی روشنی میں اساتذہ کی مستقل رہنمائی کی جاتی ہے۔

شعبہ ناظرہ

حفظ قرآن کریم اگرچہ بہت بڑی سعادت ہے مگر اس سعادت کا حصول بزور بازو نہیں ہو سکتا ۔ جب تک اﷲ تعالٰی کی توفیق شامل حال نہ ہو اسی لئے ہر بچہ حفظ کی سعادت حاصل نہیں کر سکتا مگرہر مسلمان اپنے بچے کو قرآن کریم ضرور پڑھوانا چاہتا ہے اس لئے جامعہ بنوریہ میں شعبہ ناظرہ قائم کیا گیا تا کہ وہ بچے جو حفظ نہیں کر سکتے کم از کم صحیح تلفظ کے ساتھ ناظرہ قرآن مجید پڑھ لیں اس شعبہ میں بھی متعدد کلاسیں ہیں۔

فضلاءجامعہ بنوریہ

کسی دانا مرد حق کا قول ہے کہ درخت اپنے پھل اور درسگاہ اپنے شاگردوں سے پہچانی جاتی ہے دار العلوم دیو بند نے ہندوستان میں علم و عرفان کے جو چراغ روشن کئے ان کی روشنی نے اطراف عالم کو منور کیا اکیس سال قبل حضرت بنوریؒ ، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمان رحمة اﷲ علیہ ، حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی رحمة اﷲعلیہ حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اﷲ مختار رحمة اﷲ علیہ کے شاگرد خاص اور خدمت گذار حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب نے جامعہ بنوریہ کی بنیاد رکھی تو اہل دل جان گئے کہ پاکستان کے شہر کراچی میں دار العلوم دیو بند کا پرچم لہرایا جا چکا ہے جامعہ بنوریہ کے دامن میں جو پھول کھلے، جو چراغ جلے، جو قافلے چلے، ان کی مہک ان کی ضیاءپاشی اور ان کے پیغام نے اطراف عالم کو اپنے حلقہ لطافت میں ڈھانپ لیا۔ دنیا کے کونے کونے گوشے وشے سے تشنگان علم اپنی پیاس بجھانے کے لئے جمع ہوتے گئے آج جامعہ بنوریہ کے فضلاءظلمت و جہالت کے خلاف تمام ممالک میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں امریکہ ہو یا فرانس کینیڈا ہو یا افغانستان سعودی عرب ہو یا امارت و برطانیہ جامعہ بنوریہ کے فضلاءقرآن حکیم اور حدیث رسول اﷲ ﷺ کی تعلیمات سے مسلمانوں کو روشناس کرا رہے ہیں۔

شعبہ تجوید

شعبہ تجوید میں قواعد کے مطابق قرآن مجید تلفظ کے ساتھ پڑھنے کی مکمل تعلیم دی جاتی ہے اور فن تجوید کی کتب پڑھائی جاتی ہیں۔

یہ شعبہ ماہر اساتذہ کی نگرانی میں چل رہا ہے جس میں سینکڑوں بچے ہر سال قرآن مجید حفظ کرتے ہیں اب تک ہزاروں بچوں نے قرآن مجید حفظ کیا ہے اور ماہ رمضان المبارک میں پاکستان کے مختلف شہروں کی مساجد میں قرآن مجید سناتے ہیں ۔