دار الافتاء كا تعارف | About Darulifta

دار الافتاء

قرآن کریم کا حکم ہے ”اہل علم سے پوچھواگر تم نہیں جانتے “ اپنے روز مرہ کے مسائل معلوم کرنے کےلئے ہمیشہ عوام الناس علمائے کرام اور منفتیان عظام کی طرف رجوع کرتے ہیں اسی لئے ہر بڑے ادارے میں باقاعدہ دار الافتاءقائم ہوتاہے

جامعہ بنوریہ میں بھی دار الافتاءقائم ہے جس کے لئے ماہر مفتیان کرام کا تقرر کیا گیاہے۔ جامعہ کے اس اہم شعبے سے ہر روز درجنوں افراد استفادہ کرتے ہیں مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی مسائل میں تحریری فتاوی کی صورت میں بھی ان کی رہنمائی کی جاتی ہے۔

نیز یومیہ بیسیوں افراد خود حاضرہو کر زبانی مسائل معلوم کرتے ہیں فون کے ذریعہ بھی مسائل میں لوگوں کی رہنمائی کی جاتی ہے انٹرنیٹ کے ذریعہ مسائل کا جواب دیا جاتا ہے اور اس دار الافتاءکے ذریعہ نومسلم افرادکو اسلام کی تلقین کی جاتی ہے اور انہیں دار الافتاءسے باقاعدہ تصدیق ”سند اسلام“ جاری کی جاتی ہے۔

شعبہ تخصص فی الفقہ الاسلامی

علوم شرعیہ کی وسعت اور ہمہ گیری معلوم ومسلم ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ آج کے اس قحط الرجال کے دورمیں جو آرام پسندی کا دورہے کسی ایک شخص کا ان علوم میں ماہر ہونا انتہائی مشکل بلکہ نا ممکن ہے پھر ہر ایک کا ذوق مختلف ہے کسی کو حدیث سے لگاو ہے تو کسی کی طبیعت فقہ میں زیادہ چلتی ہے۔ کوئی علوم قرآن اور تفسیر میں دلچسپی رکھتا ہے تو کوئی شخص دعوت و تبلیغ کا دالدادہ ہے۔ اسی لئے ہر دور میں مختلف علوم میں متخصصین اور ماہرین پائے جاتے رہے ہیں جیسا کہ دنیاوی علوم میں کوئی کسی فن کا ماہر ہوتا ہے اور کوئی کسی فن میں۔ مختلف علوم کے ماہرین پیدا کرنے کے لئے جامعات میں تخصص کے لئے درجات قائم کئے جاتے ہیں۔ اپنی ہمعصر جامعات کی طرح جامعہ بنوریہ نے بھی تخصص فی الفقہ الاسلامی کا اجراء کیا تاکہ ایسے افراد تیار کئے جائیں جن میں تفقہ ہو۔ فتوی دینے میں مہارت ہو اور وہ علم فقہ میں اس طرح دسترس رکھتے ہوں کہ لوگوںکے پیش آمدہ مسائل کا حل نکال سکیں۔ تخصص فی التفسیر و علوم القرآن تخصص فی الفقہ الاسلامی کی کامیابی کے بعد تخصص فی التفسیر کا درجہ بھی شروع کر دیا گیا اور الحمدﷲ یہ دونوں درجے کامیابی سے جاری ہیں۔ شعبہ نشر و اشاعت ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مدارس عربیہ اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے حربے آج کل استعمال ہو رہے ہیں اس سے قبل کبھی نہ تھے۔ شرک و بدعت اور ملحدانہ نظریات کے پرچار کے لئے اخبار و رسائل کو ذریعہ بنا کر مسلمانوں کی نوجوان نسل کو اسلام سے متنفر کرنے کی کوشش انتہاءکو پہنچ چکی ہے۔ وقت کی رفتار کو محسوس کرتے ہوئے جامعہ بنوریہ نے بھی ایک الگ شعبہ نشرو اشاعت کے ذریعہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کےلئے اخبارات و رسائل کا سہارا لیا ہے۔ الحمدﷲ رسائل و اخبارات میں مضامین اور بیانات کے ذریعہ اہل شرک و بدعت کو دندان شکن جواب دے کر احوال کی اصلاح کی جاتی ہے۔ اور دو رسائل شروع کئے گئے ہیں۔

شعبہ کمپیوٹر

کمپیوٹر دور جدید کی اہم ایجاد ہے جس سے ہر میدان میں کام لیا جا رہاہے۔ خصوصًا تعلیمی میدان میں ہو تو اسکی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کمپیوٹر آج ایک اہم ضرورت بن کر رہ گیا ہے اس مسابقت کی دوڑ میں کمپیوٹر سے بے اعتنائی پسماندگی اور پیچھے رہ جانے کی علامت سمجھی جانے لگی ہے یہی وجہ ہے کہ ہر شعبہ میں اس کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔جامعہ بنوریہ نے بھی کوشش کی کہ وہ بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے اس کے لئے جامعہ میں باقاعدہ کمپیوٹر کا شعبہ قائم کیا گیاہے اس شعبہ میں نہ صرف یہ کہ طلباءاساتذہ اور مدرسہ کامکمل ریکارڈ محفوظ کیا جاتاہے بلکہ باقاعدہ طلباءکو کمپیوٹر کی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ ان کی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں اور وہ اپنے علوم کا بہتر طریقہ سے استعمال کر سکیں۔

انٹرنیٹ

الحمدﷲ جامعہ بنوریہ سائٹ نہ صرف سائنسی ایجادات کی قدر کرتا ہے بلکہ اسے رواج بھی دیتا ہے۔ پاکستان کے دینی مدارس میں جامعہ بنوریہ واحد تعلیمی ادارہ ہے جس نے سب سے پہلے انٹرنیٹ پر ویب سائٹ متعارف کرائی اور بحمدﷲ اس وقت بھی جامعہ کی مندرجہ ذیل ویب سائٹ بحسن وخوبی جامعہ کا تعارف کرارہی ہے:

www.jamiabinoria.net

فتوٰی سروس

انٹرنیٹ پر ویب سائٹ کی طرح فتوٰی سروس بھی جامعہ ہی کی ایجاد ہے اس سروس میں مفاد عامہ یہ ہے کہ پوری دنیا سے کسی وقت بھی جامعہ سے مسائل معلوم کئے جاسکتے ہیں بلکہ باقاعدہ مہر کے ساتھ فتوٰی حاصل کیا جاسکتا ہے۔اس سروس سے مستفید ہونے کے لئے مندرجہ ذیل ای میل استعمال کی جاسکتی ہے: