جامعہ بنوریہ عالمیہ

جامعہ بنوریہ عالمیہ

جامعہ بنوریہ حضرت بنوریؒ کی یادگار

جامعہ بنوریہ عالمیہ دار العلوم دیو بند کی طرز پر قائم کیا گیا جوایک دینی مذھبی اور منفرد ادارہ ہے جس کی نسبت محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی طرف ہے۔ جوجامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاو¿ن کے بانی و مہتمم، محدث العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری ؒ کے علوم و معارف کے وارث ،عاشق رسول ،مجاہدختم نبوت ،عظیم مصنف ،قادر الکلام اورجراا ت و استقامت کے پیکر تھے ۔

دار العلوم دیو بند کا روشن ستارہ علماءحق کا ترجمان مسلک اہل سنت کا امین ہے، جس نے بہت ہی قلیل عرصہ میں بین الاقوامی شہرت حاصل کر لی یہ شہرت Êن علماءربانیین کی دعا¶ں اور جدوجہد کاہی کرشمہ ہے۔

دینی مدارس جو وقت کی اہم ضرورت ہیں ان کی ضرورت ہر دور میں محسوس کی جاتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ حضور اقدس ﷺ کے اپنے ابتدائی دور میں جب کفار مکہ نے آپ کو دعوت و تبلیغ سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور آپ کی راہ میں ہر طرح کی رکاوٹیں کھڑی کیں تو اس وقت حضرت زید بن ارقم رضی اﷲ عنہ کے گھر میں ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی جسے دار ارقم سے یاد کیا گیا جہاں ایمان و ایمانیات کی دعوت دی جاتی تھی اور اس کے بعد مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے ساتھ ایک چبوترہ بنا کر باقاعدہ اقامتی اور رہائشی مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی جسے صفہ سے یاد کیا گیا۔ مدارس کے قیام کی یہ ضرورت کیوں نہ محسوس ہو کہ دین اسلام کی حفاظت اور بقائ، ایمان و عقائد کی درستگی انہی مدارس پر موقوف ہے۔

جامعہ بنوریہ کی تاسیس

حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب جن کی تعلیم وتربیت اپنے والد محترم حضرت قبلہ قاری عبدالحلیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے علاوہ محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمة اﷲ علیہ، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب رحمة اﷲ علیہ ،حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹو نکی رحمة اﷲ علیہ، حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اﷲ مختار رحمةاﷲ علیہ، حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی رحمة اﷲ علیہ، حضرت مولانا مصباح اﷲ شاہ صاحب رحمةاﷲ علیہ نے کی اور اپنی ہی خواہش اور حکم پر سائٹ جیسے جنگل نما علاقہ جہاں آبادی نہ ہونے کے برابراور بس پر سوار ہونے کے لئے میلوں پیدل سفر کرنا پڑے اس علاقہ میں دینی ادارے جامعہ بنوریہ کا آغاز کیا ایک چھوٹی سی بے یارو مدد گار مسجد جہاں رات دن آوارہ کتوںنے ڈیرہ ڈال رکھا تھا مسجد تو تھی مگر اﷲ اکبر کی صدا سے محروم مسجد کی صفائی کی گئی اور اﷲ اکبر کی آواز بلند ہوئی چند مزدوروں کو بلاکر نماز باجماعت ادا کی۔ اور چند مقامی بچوں سے یہ ادارہ شروع ہوا رفتہ رفتہ یہ ادارہ دینی تعلیم کیلئے ایک مثالی اسلامی یونیورسٹی بن چکا ہے۔ ان حالات میں جامعہ بنوریہ حضرت قاری عبدالحلیم صاحب مدظلہ کی سرپرستی میں حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب کے ہاتھوں میں ۸۹۳۱ھ بمطابق1978 ءمیں انتہائی کی نامساعدحالات میں اﷲ تعالےٰ پر کامل بھروسہ اور توکل علی اﷲکرتے ہوئے جامعہ بنوریہ کی بنیاد رکھی۔ آج جامعہ بنوریہ میں دو عظیم مسجدیں اورمتعدد پر شکوہ عمارتیں اپنے مکمل نظم ونسق کے ساتھ قائم ہیں اور چندطلباءسے شروع ہونے والا یہ ادارہ آج عظےم الشان جامعہ کی صورت اختیار کر چکاہے۔ جس میںپاکستان اور متعدد بیرونی ممالک کے ہزاروںطلباءاورطالبات حصول علم میں مشغول ہیں۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کی غرض و غایت ۱۔عامةالناس میں دینی علوم ،قرآن ،حدیث عقائد اہل سنت والجماعت،فقہ حنفی اور ان کے متفقہ علوم کی ترویج واشاعت ۔ ۲۔قرآن وحدیث اور فقہ کی ایسی مکمل اور محققانہ تعلیم کا انتظام وانصرام کرنا جس سے ضروریات دین اور عصر حاضرکے جدیدتقاضوں کا خیال رکھا جائے۔ ۳۔ایسے محقق اور ماہر علماءتیار کرنا جو دین اسلام کو ٹھوس اور مضبوط بنیادوں پر پورے عالم میں پہنچا سکیں۔ ۴۔ایسے ماہر مدرسین تیار کرنا جو مسند تدریس پر بیٹھ کر تشنگان علوم کی علمی پیاس بجھا سکیں۔ ۵۔علماءوفضلاءپر ایسی محنت کرنا جو دین کے مختلف شعبہ جات مثلاًقضائ،تبلیغ،مناظرہ،عربی،اردوزبان میں تحریروتقریر کے علاوہ تصنیف وتالیف کے میدان میں دین اسلام کی نمایاں خدمات سرانجام دے سکیں۔ ۶۔خدمت خلق کا مستقل شعبہ قائم کرکے مفت ایمبولینس گاڑیاں،ہسپتال قائم کرنا۔ ۷۔پسماندہ اور غریب دیہات میں خود بھی مدارس قائم کرنا اور پہلے سے قائم دینی اداروں کی سرپر ستی کرنا۔ ۸۔غلبہ اسلام کی مقامی اور عالمی تحریکوں کی اخلاقی اور افرادی نصرت وحمایت کرنا۔ مسلک جامعہ بنوریہ کا مسلک عقائد اہل سنت والجماعت،حنفی اور مشرب دیوبند کے مطابق ہے جامعہ کا طریقہ فکر وعمل حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ امام ربانی مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مطابق ہے جامعہ کے ارکان عہدیداران اور مدرسین کے تقرر میں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ مسلک ومشرب کے مطابق ہوں۔ جامعہ مسلمانوں کے لئے مذہبی قوت کا سر چشمہ ہے اور اوّل سے آخر تک اسلام کے دستور وآئین کے پابند ہے یہی وجہ ہے کہ جامعہ کا ہر فرد اسلام کا نمونہ ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے الحاق جامعہ کا دینی مدارس کی عظیم تنظیم ”وفاق المدارس العربیہ پاکستان“ سے الحاق ہے۔ جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ کا امتحان بھی ”وفاق“ ہی لیتاہے اور جامعہ کے لئے تمام تر اسنادبھی ”وفاق“ ہی جاری کرتاہے اور یہ تمام تر اسناد سرکاری اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی اسناد کے مساوی ہیں اور ان اسناد کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے تسلیم کیاہے۔ طریقہ تدریس (الف) مختلف فنون کی تدریس کےلئے ماہرین اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جوہر سبق کے تقاضوں کے پیش نظر تدریسی انداز اختیار کرتے ہیں۔ (ب) طلبہ میں مختلف کتب کا مطالعہ اور نوٹس تیار کرنے کا شوق پیدا کیا جاتا ہے اور اسکی نگرانی کا باقاعدہ انتظام ہے۔ (ج) تدریسی اوقات کے علاوہ اسباق کا تکرار (دہرائی) اور تحریری کام اساتذہ کی رہنمائی اور نگرانی میں مکمل کرایا جاتاہے۔ (د) جو سبق پڑھایا جاتاہے دوسرے دن کلاس میں اس سبق کو سننے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ خصوصی تربیت (الف) تبلیغی جماعتوں کو خصوصی طور پر جامعہ میں آنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ (ب) ہر شب جمعہ کو مقامی تبلیغی مرکز میںجانے کے لئے طلبہ کو ترغیب دی جاتی ہے۔ (ج) ہفتہ واری طلبہ کے ۴۲ گھنٹوں کی تشکیل بھی ہوتی رہتی ہے۔ (د) ہر روز بعد نماز عصر بیان اورہفتہ وار گشت بھی ہوتاہے۔ (ھ) ہر روز بعد نماز فجر سورة یسین کا ختم ہوتا ہے اور اس کے بعد اجتماعی دعا ہوتی ہے۔ (د) ہر ماہ وعظ و نصیحت کی مجلس کا اہتمام کیا جاتاہے جسمیں کسی ایک بزرگ کو دعوت دی جاتی ہے جو طلباءکو وعظ و نصیحت فرماتے ہیں۔ (ح) اس کے علاوہ اساتذہ اور ناظم تعلیمات بھی طلبہ کی تربیت کا فریضہ انجام دیتے رہتے ہیں۔ اوقات تعلیم جامعہ میں تعلیم کی ابتداءقمری مہینوں کے مطابق ہوتی ہے۔ تعلیم کا دورانیہ درجہ کتب میں دس ماہ کا ہوتا ہے۔ سالانہ تعطیلات ۶۱ شعبان سے ۶ شوال تک ہوتی ہیں علاوہ ازیں عید الاضحٰی کی دس چھٹیاں ہوتی ہیں اور ہر جمعرات کی شام سے جمعہ کی شام تک چھٹی ہوتی ہے جبکہ حفظ و ناظرہ میں تعلیم پورے سال جاری رہتی ہے۔ البتہ عید الاضحٰی کی دس چھٹیوں کے علاوہ ۰۲ رمضان المبارک سے چھ شوال تک چھٹی ہوتی ہے۔ درجہ کتب کے لئے صبح سے شام تک تدریس کے سات گھنٹے ہوتے ہیں۔ درمیان میں دوپہر کو دو گھنٹے خورد نوش، قیلولہ اورنماز ظہر کےلئے وقفہ ہوتاہے البتہ درجہ حفظ کی پڑھائی تین وقفوں کے ساتھ نماز فجر سے عشاءتک جاری رہتی ہے۔ امتحانات جامعہ میں حفظ وناظرہ اور درجہ کتب میں سال بھر میں تین امتحان ہوتے ہیں۔ ۱۔ سہ ماہی امتحان صفر کے پہلے ہفتہ میں۔ ۲۔ ششماہی، امتحان جمادی الاولٰی کے پہلے ہفتہ میں۔ ۳۔ سالانہ امتحان شعبان المعظم کے پہلے ہفتہ میں۔ درجہ متوسطہ، ثانویہ عامہ، ثانویہ خاصہ، عالیہ، عالمیہ ہر درجے کے دوسرے سال کا سالانہ امتحان اور تکمیل حفظ پر کامل الحفظ کا امتحان ’وفاق المدارس العربیہ پاکستان“ کے تحت ان کے نظم کے مطابق ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ ہرماہ ماہانہ جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔