جامعہ بنوريہ للبنات | شعبہ بنات | نصاب و تعارف

جامعہ بنوریہ للبنات

اس دنیا کی رونق اس کی گہما گہمی،اسکی چہل پہل صرف مردوں ہی سے قائم نہیں بلکہ اس میں عوتوں کابھی برابر کا حصہ ہے بلکہ اس دنیا میں رونق عورت کے وجود سے ہی قائم ہے۔

وجودِزن سے ہے کائنات میں رنگ

بلکہ قوموں کی تعمیر وترقی اور ان کی تربیت میں عورت کا جو حصہ ہے وہ کسی تشریح بیان کا محتاج نہیں۔ماں کی گود بچے کی سب سے پہلی درسگاہ بھی ہے اور تربیت گاہ بھی اور یہ ایسی مضبوط وموثر درس گاہ ہے کہ اس کا یاد کیا ہوا سبق کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔

اسلام میں جتنی اہمیت مردوں کی دینی اصلاح کی ہے تو عورتوں کی دینی تعلیم وتربیت کی اہمیت بھی کسی طرح کم نہیں کیونکہ اسلام کے احکامات کے مخاطب جس طرح مردہیں اسی طرح عورتیں بھی ہیں بلکہ بعض احکام میں تو صرف عورتیں ہی مخاطب ہیں اسی لئے دین کا سیکھنا مردوعورت دونوں کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔

قرون اولی کی عورتوں نے دین کو سیکھنے اور اسے پھیلانے میں بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں تاریخ گواہ ہے کہ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی اور حضور اکرم ﷺکو تسلی دینے والی شخصیت ایک عورت حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنھا کی تھی اورجس نے اسلام کی خاطر سب سے پہلے جام شہادت نوش کیا وہ بھی ایک عورت(حضرت سمیہ رضی اﷲ عنھا)تھی،حضرت عمر رضی اﷲ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کے اسلام لانے کا ظاہری سبب بھی ایک عورت ہی بنی یعنی ان کی بہن رضی اﷲ عنھا۔ غرضیکہ عورتوں کا دین سیکھنے ،علم حاصل کرنے اوراسے پھیلانے میں بہت بڑا حصہ ہے۔

درجہ کتب (عالمہ کورس)

درجہ کتب میں پانچ سالہ نصاب تعلیم جید علماءکرام کا مرتب کردہ ہے طالبات کو صرف عربی میں اسباق پڑھائے جاتے ہیں کلاسوں میں عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں گفتگو کرنا ممنوع ہے۔ تاکہ طالبات کو عربی زبان پر عبور حاصل ہو۔

طالبات کو چھٹے سال میںتدریس وغیرہ کی مشق کرائی جاتی ہے اور انہیں مختلف اسباق پڑھانے کیلئے دیئے جاتے ہیں۔

درجہ کتب میں زیر تعلیم طالبات کا تعلق امریکہ ۔برطانیہ ۔فرانس ۔کنیڈا ۔تنزانیہ ۔موزمبیق اور دیگر ممالک سے ہے۔ پاکستان میں پشاور، سوات۔شہدادپور ۔ شکارپور۔ سکھر۔ فیصل آباد ۔ لاہور۔ اسلام آباد ۔ملتان ۔ٹنڈوجام ۔کراچی۔

رہائشی طالبات کےلئے(۱)ائیر کنڈیشن کمرے(۲)ڈسپنسری (۳)مطبخ (۴)مطعم (۵)لائبریری(۶)باپردہ دارالاقامہ(۷)باپردہ درسگاہیں(۸)غیر رہائشی طالبات کےلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام۔

درجہ حفظ القرآن الکریم

جامعہ بنوریہ للبنات کے درجہ حفظ میں زیر تعلیم طالبات کا تعلق بھی امریکہ ۔فرانس۔ کینڈا۔ موزمبیق۔ تنزانیہ ۔ دبئی۔برطانیہ۔ تاجکستان کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں نواب شاہ ۔لاہور۔ فیصل آباد۔ حیدر آباد۔ ملتان۔ اسلام آباد ۔ کوئٹہ ۔ ٹنڈو جام۔ پشاور۔ سوات ۔ شہداد پور۔ ماتلی۔کراچی سے ہے ۔ہر سال کئی طالبات قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کرتی ہیں۔درجہ کتب اور درجہ حفظ میں زیر تعلیم طالبات کی تعداد تقریباًپانچ سو ہے۔

مقاصدجامعہ بنوریہ عالمیہ للبنات

۱۔ مسلمات اور امہات المسلمات میں تقویٰ، اور بلند اخلاق کا پیدا کرنا، تعلیمی شعور اجاگر کرنا کہ یہی دین اسلام کا مقصد ہے۔

۲۔ بنات کو اسلام کے بنیادی علوم کی تعلیم دینا۔

۳۔ قواعد تجوید کے مطابق قرآن پاک کی تصحیح کرانا۔

۴۔ طالبات کو غیر شرعی عادات رسومات اور بدعات سے بچنے کی تعلیم وتربیت اور اتباع سنت کیطرف رغبت دلانا۔

۵۔ طالبات کو خواتین سے متعلقہ امور میں خصوصی طور پر آداب واحکام اسلامی سے روشناس کرانا۔

۶۔ طالبات کو تحصیل علم سے فراغت کے بعد اپنے خاندانوں اور اپنے علاقوں میں دین کی حفاظت اور دعوت الی اﷲ کے فریضہ اوّلین کو ادا کرنے کےلئے تیار کرنا۔

۷۔ طالبات میں اسلامی شعور کو بیدار کرکے ان کی اجتماعی اور انفرادی زندگی کو کتاب وسنت کے احکام کے مطابق ڈھالنا۔

۸۔ طالبات کی تربیت میں خصوصی طور پر ان امور پر توجہ دینا۔ شب بیداری۔وقت کی پابندی۔نوافل کی ادائیگی۔تلاوت قرآن حکیم۔طعام وقیام۔امور ضروریہ اور گھریلو آداب کی پابندی۔باہمی ادب واحترام، ایثار،ہمدردی پیدا کرنا،دنیا اور اس کے سازوساماں سے بے رغبتی پیدا کرنا، ہر کام میں سنت نبویہ پر عمل کرنا، مسنون دعاوں کی عادت ڈالنا،ان امور کی بدولت طالبات میں اسلامی رنگ نکھر کرسامنے آتا ہے جو یقینا دیر پا ہوتا ہے۔

۹۔ فارغ التحصیل طالبات خالص دینی ذہن لے کر ملک کی درسگاہوں میں اصلاح فکر وعمل کا جہاد کرنے لگیں۔

۰۱۔ ان طالبات کے ذریعہ گھروں اور خاندانوں میں صحیح اسلامی عقائد کی اشاعت ممکن بنانا۔

۱۱۔ ایسی خواتین تیار کرنا جو علوم اسلامیہ میں مہارت پیدا کرکے نئی تہذیب کی پیدا کردہ ان خواتین کے ذہنوں کو بدل دیں جو آج اسلامی تعلیمات اور عورتوں کے حقوق کو مسخ کررہی ہیں۔

بنات کے مختلف درجات کے لئے شرائط داخلہ

داخلہ کا وقت ۰۱ شوال تا ۵۲ شوال

۱:حافظات:

(الف) عمر ۸ تا ۲۱ سال

(ب) اردو پڑھنے لکھنے کی صلاحیت

(ج) مطلوبہ ذہنی استعداد کا ہونا

(د) جامعہ بنوریہ للبنات میں رہائش رکھنا

(ھ) تین ماہ کیلئے داخلہ عارضی ہو گا (مناسب کارکردگی پر مستقل داخلہ)

(و) والدین /سرپرست کا داخلہ کے وقت داخلہ فارم کے ساتھ شناختی کارڈ کی کاپی جمع کرانا لازمی ہوگا۔

(ز) طالبہ سے ملاقات ہفتہ میں ایک بار کی اجازت

(ح) طالبہ کے آمدورفت کا بندوبست والدین کے ذمہ

(ط) عشاءکے بعد اسکول کی تعلیم لازمی ہوگی

(نوٹ) کسی بھی طالبہ سے تعلیمی یا تدریسی فیس نہیں لی جاتی ۲

:عالمات:

(الف) عمر ۳۱ سال تا ۰۲ سال

(ب) ناظرہ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ مڈل پاس ہونا

(ج) مطلوبہ ذھنی استعداد

(د) تحریری ٹیسٹ میں پاس ہونا

(ھ) جامعہ کے اصول وضوابط کی پابندی کرنا

(و) والدین/ سرپرست کا داخلہ کے وقت داخلہ فارم کے ساتھ شناختی کارڈ کی کاپی جمع کرانا لازمی ہے

(ز) شرعی پردہ لازمی ہے

(ح) تین ماہ کیلئے داخلہ عارضی ہو گا۔ سہ ماہی امتحان میں پاس ہونے کی صورت میں مستقل داخلہ شمار ہو گا۔

تعطیلات

مستقل تعطیلات:

(الف) عیدالفطر کے موقع پر پندرہ تعطیلات

(ب) عیدالاضحی کے موقع پر آٹھ تعطیلات

(ج) امتحانات کے موقع پر جامعہ کی صوابدید پر

تعطیلات اتفاقی یا مروجہ

تعطیلات: اتفاقی، مقامی، سرکاری یا کسی تہوار کے موقعہ پر تعطیل کے بجائے موقع کی مناسبت سے خصوصی پروگرام بنائے جاتے ہیں کیونکہ مستقل رہائش پذیر طالبات کیلئے اس مخصوص تعطیل کے موقع پر گھر آنا جاناممکن نہیں ہوتا۔

تخصص فی الفقہ للبنات:

اسلام میں عورتوں کو دینی ودنیوی علوم سیکھنے کی نہ صرف اجازت دی گئی ہے بلکہ ان کی تعلیم وتربیت کو اس قدر ضروری قرار دیا ہے جس طرح مردوں کو تعلیم وتربیت ضروری ہے دین واخلاق کی تعلیم جس طرح مرد نبی کریمﷺ سے حاصل کرتے تھے اسی طرح عورتیں بھی حاصل کرتی تھیں آپنے ان کیلئے اوقات مقرر کردئیے تھے آپ کی ازواج مطہرات اور خصوصاً حضرت عائشہؓ نہ صرف عورتوں کی بلکہ مردوں کی ھبی معلمہ تھیں اور بڑے بڑے صحابہ کرام وتابعین ان سے حدیث ،تفسیر اور فقہہ کی تعلیم حاصل کرتے تھے اشراف تو درکنار نبی کریمﷺ نے لونڈیوں تک کو علم اور ادب سکھانے کا حکم دیا تھا۔ جامعہ بنوریہ نے اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے طالبات میں بھی تخصص کا آغاز کیا اور یہ ملک میں پلی مرتبہ آغاز ہوا ہے۔

تخصص کا نصاب درج ذیل ہے۔

کتب درجہ تخصص

نمبرشمار اسمائے کتب نمبرشمار اسمائے کتب ۱۔ فتویٰ نویسی کے راہنما اصول ۲۔ اصول افتائ ۳۔ عالمگیریہ ۴۔ امدادالاحکام(۲ جلد) ۵۔ امدادالفتاویٰ(۴جلد) ۶۔ سراجی ۷۔ جواہر الفقہ ۸۔ عقائد اسلام ۹۔ تحفتؓ الفقہائ ۰۱۔ مقدمہ شامی ۱۱۔ لمائلی قوانین ۲۱۔ قواعد الفقہ ۳۱۔ جدید مسائل پر تحقیق ۴۱۔ عشق وتحرین

رسائل

نمبر شمار اسمائے رسائل نمبرشمار اسمائے رسائل ۱۔ براویڈنٹ فنڈ ۲۔ بیمہ زندگی ۳۔ اعظاءانسانی کی پیوندکاری ۴۔ تقلید کی شرعی حیثیت ۵۔ مسئلہ سود ۶۔ فقہی مقالات ۷۔ بہشتی زیور(مدلل)