مفتي عتيق الرحمن شهيد رفع اللہ درجاتہ

تعارف

حضرت مولانا مفتي عتيق الرحمن ابن مولانا هافظ جان محمد بن ركن الدين الراعي

آٹه سال كى عمر ميں اپنے والد محترم سے حفظ قرآن مكمل كيا اور اپنے برادر كبير حضرت مولانا عبد الشكور صاحب سے فارسى كى تعليم كي تكميل كي

1969 ميں اسلاميہ ہائى اسكول سكهر سے ميٹرك اور 1971 ميں اسلاميہ كالج سكهر سے انٹر ميڈيٹ كيا ۔ پهر تبليغى جماعت كے ساته چار مہينے لگائے اور تبليغ كے روح رواں حضرت الحاج بهائي عبد الوهاب صاحب كي ترغيب اور مشورہ سے دينى تعليم كي تكميل كےلئے مدرسہ عربيہ رائے ونڈ ميں داخلہ ليا اور درجہ سادسہ تك تعليم مكمل كركے اوكاڑا ميں جامعہ انوريہ كے بانى يادگار مشائخ حضرت اقدس مولانا عبد الحنان تاجكى ثم مدني اورحضرت مولانا عبد القديم صاحب كى خدمت ميں رہ كر موقوف عليہ كى كتابوں كى تعليم پائى۔

1977 ميں عالم اسلام كى مشہور درسگاہ جامعہ علوم اسلاميہ علامہ بنورى ٹاون ميں رہ كر دورہ حديث مكمل كيا اور پهر سعوديہ عرب ميں قائم مدينہ يونيورسٹى تشريف لے گئے اور مدينہ منورہ ميں 1981 سے 1985 تك علوم قرآن اور قراءت سبعہ عشرہ كى تكميل كى۔

اساتذہ كرام

دورہ حديث كے اساتذہ كرام:

محدث عصر حضرت مولانا محمد يوسف بنورى
حضرت مولانا محمد ادريس ميرٹهى
حضرت مولانا مفتى ولى حسن ٹونكى
حضرت مولانا فضل محمد سواتى
حضرت مولانا معاذ الرحمن
حضرت مولانا بديع الزماں
حضرت مولانا مصباح اللہ شاہ

خصوصى اساتذہ كرام

حضرت مولانا عبد الحنان
حضرت مولانا عبد القديم
حضرت مولانا محمد احسان الحق
حضرت مولانا جمشيد على
حضرت مولانا نذر الرحمن

تدريس و افتاء

حضرت اقدس مولانا بنورى صاحب اور مولانا محمد ادريس صاحب كے مشورہ سے ٹنڈو آدم كے تبليغي مركز ميں تدريس كا آغاز كيا اور اٹهارہ سال تك درس نظامى كي چهوٹى بڑى تمام كتب كي تدريس كى۔

حضرت مولانا مفتى ولى حسن صاحب كي زير نگرانى تدريس كے ساته ساته افتاء سے متعلقہ كتب كا مطالعہ شروع كيا اور عظيم محقق و اسكالر فلسفہ ولى الہي كے امين حضرت مولانا غلام مصطفى قاسمى صاحب سے مقدمہ شامى اور رسم عقود المفتى كا درس حاصل كيا اور فتاوى كى مشق مفتى ولى حسن صاحب سے كى۔ اسى اثناء ميں تبليغى مركز ميں باقاعدہ دار الافتاء قائم كركے حضرت مفتى صاحب ي نگرانى ميں فتاوى جارى كرنے شروع كئے جن كي تعداد ہزاروں تك پہنچتى ہے۔

1996 ميں كراچى منتقل ہوكر جامعہ بنوريہ عالميہ ميں تدريس شروع كى اور تاحال استاذ حديث و فقہ كے منصب پر فائز اور دار الافتاء للبنات كے نگراں ہيں - شہادت سے قبل تك

عوامى حلقہ ميں آپ كى ولولہ انگيز اور پر جوش تقرير بہت شوق اور دلچسپى سے سنى جاتى ہيں اور ملك كے طول و عرض ميں اكابر اہلسنت كے طرز پر جديد سائنس اور حالات حاضرہ كى روشنى ميں قرآن كريم كى تشريح و تفسير كے حوالہ سے آپ كو خصوصى شہرت حاصل ہے۔

تبليغى اسفار

1971 ميں چار ماہ لگائے 1980 اور 1981 ميں پاك و ہند ميں ايك سال لگايا 1989 مىں يورپ كے ممالك اٹلى و سوئز لينڈ ميں ايك سال لگايا۔
آپ كے دست حق پرست پر اسلام قبول كرنے والے خوش نصيب افراد كى تعداد تقريبا ايك سو 100 ہے جن ميں عيسائى ہندو اور قاديانى مذہب سے تائب ہوكر اسلام كے دامن سے وابستہ ہونے والے افراد شامل ہيں۔

بيعت

حضرت شيخ الحديث عارف باللہ مولانا محمد زكريا كاندهلوى رحمہ اللہ
تجديد بيعت و خلافت حضرت شيخ الحديث اور حجرت حاجى ترنگزئى كے خليفہ حضرت مولانا عبد الحنان تاجكى ثم مدنى سے تجديد بيعت كى۔ اور 1976 ميں خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے۔

دورہ حديث كے اساتذہ كے علاوہ حديث كي اجازت

حكيم السلام حجرت قاري محمد طيب صاحب رحمہ اللہ
مفكر اسلام اور اسلامى سياست كے روح رواں حضرت مفتى محمود صاحب رحمہ اللہ
تبليغ و دعوت كے امام حجرت مولانا انعام الحسن صاحب كاندهلوي رحمہ اللہ

تصانيف

عقد انامل
چہل حديث قدسى
عيد اور قربانى كا فلسفہ اور احكام
استقبال رمضان

شہادت

حضرت مفتى عتيق الرحمن شهيد رفع اللہ درجاتہ نے شهادت سے قبل يہ تحرير سپرد قلم فرمائى تهى جسے اللہ تعالى نے شرف قبوليت بخشا

مفتى صاحب كى آخرى تحرير



مفتي صاحب كي شہادت پر ايك نظم -2

مفتي صاحب كي شہادت پر ايك نظم